پیر 12 جنوری 2026 - 09:47
احکام شرعی | دوسروں کے سامنے نظام اسلامی کے ضعف اور کمیوں کو بیان کرنا

حوزہ/ رہبر معظم نے دوسروں کے سامنے نظام اسلامی کے ضعف اور کمیوں کو بیان کرنے کے سلسلے میں کئے گئے استفتاء کا جواب دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دوسروں کے سامنے نظام اسلامی کے ضعف اور کمیوں کو بیان کرنے کے سلسلے میں کئے گئے استفتاء کا جواب دیا ہے جسے ہم اپنے قارئین کی خدمت پیش کر رہے ہیں۔

نظام اسلامی کی کمزوریوں اور کمیوں کے سلسلے میں بیانات کو سننا یا لوگوں کو بتانا:

سؤال:

بعض افراد دوسروں کے سامنے اسلامی حکومت کی کمزوریوں اور کمیوں کے سلسلے میں بیانات دینے لگتے ہیں، ایسے افراد کی گفتگو سننا اور پھر اس چیز کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

واضح ہے کہ ہر وہ عمل جو کفر اور عالمی استعمار کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہنے والے اسلامی جمہوریہ کے چہرے کو داغدار اور بدنام کرے، اسلام اور مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے، لہذا اگر اس طرح کی گفتگو نظام اسلامی کی تضعیف کا سبب بنے تو ہرگز اسے سننا جائز نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha